بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس عورت کا دماغی توازن ٹھیک نہ ہو اس کا نکاح کروانا

سوال

ایک عورت  ہے جس کا دماغی توازن درست نہیں، وہ نماز ، روزے وغیرہ بھی نہیں رکھ سکتی، اپنے مخصوص ایام کے متعلق  بھی اس کو آگاہی نہیں ہوتی، اپنی جسمانی صفائی کے لیے کسی نہ کسی کی محتاج ہے، گھریلو کام کاج کے حوالے سے وہ عورت صفائی وغیرہ کرسکتی ہے، لیکن کھانا نہیں بنا سکتی، سوال یہ ہے کہ اس عورت کا نکاح کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت کا نکاح کرنا اس کی باپ کی اجازت سے جائز ہے، مجنونہ کا نکاح باپ کی ولایت سے ہوسکتا ہے۔ لیکن عورت کی معذوری کی تمام تفصیل سے لڑکے کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کا دھوکہ نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وللولي) الآتي بيانه (إنكاح الصغير والصغيرة)، جبرا (ولو ثيبا) كمعتوه ومجنون شهرا۔

قال في النهر: فللولي إنكاحهما إذا كان الجنون مطبقا، وهو شهر على ما عليه الفتوى."

(کتاب النکاح، باب الولي، ج:3، ص:66، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144705101810
تاریخ20-11-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں