ایک درود شریف کی تحقیق
سوال
اللّهم صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ وَسَلَّمْتَ عَدَدَ مَا فِيْ عِلْمِكَ وَعَدَدَ مَاتُحِبُّ وَتَرْضَى.
کیا اس درود شریف کا احادیث مبارکہ میں ثبوت ہےیا نہیں؟ کیا اسے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ جبکہ سننے میں آیا ہے کہ یہ درود پاک حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے معمولات میں شامل تھا۔
جواب
درود شریف کے بہت سے صیغے و الفاظ منقول ہے، کسی خاص الفاظ کے ساتھ تخصیص نہیں ، نیز یہ ضروری نہیں کہ تمام الفاظ حضور ﷺ سے منقول ہوں، بلکہ درست مفہوم پر مشتمل غیر منقول کلمات سے درود پڑھنا بھی جائز ہے، اور اس پر درود پڑھنے کا ثواب مل جاتا ہے،تاہم احادیث مبارکہ میں منقول درود پڑھنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔
سوال میں مذکور درود مفہوم کے اعتبار سے درست ہے، اس لیے اس کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ، البتہ ان الفاظ کے ساتھ درود احادیث میں تلاش کے باوجود نہ مل سکا، تاہم اس سے ملتے جلتےالفاظ دلائل الخیرات ودیگر درود شریف کی کتب میں مل جاتے ہیں۔
دلائل الخیرات ميں ہے:
"اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آَلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَدَدَ مَا أَحَاطَ بِهِ عِلْمُكَ وَجَرَى بِهِ قَلَمُكَ.."
(دلائل الخیرات، محمد بن سلیمان الجزولی،مطبوعہ:المیزان پبلیشرز،كراچی، 2017ء، دوسری منزل، صفحہ:66)
"اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آَلِ مَحَمَّدٍ عَدَدَ عِلْمِكَ.."
(دلائل الخیرات،پانچویں منزل، صفحہ:153)
"اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلٰوةً تُرْضِيْكَ وَتُرْضِيْهِ وَتَرْضَى بِهَا عَنَّا وَاجْزِهِ عَنَّا مَا هُوَ أَهْلُهُ."
(دلائل الخیرات،تیسری منزل، صفحہ:92)
القول البديع میں ہے:
"وَيُروى عن زين العابدين علي بن الحسين: أنه كان إذا صلَّى على جدِّه صلَّى الله عليه وسلّم يقول والنّاس يسمعونه:.. "اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى تَرْضَى، وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ بَعْدَ الرِّضَا، وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ أَبَدًا أَبَدًا".
( القول البديع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع، شمس الدین سخاوی،دار المنھاج، مدینہ منورہ،طبعہ سوم:2011ء، صفحہ: 129)
حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی کتب میں بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ درود تو نہیں ملا، البتہ اسی مفہوم ومعنى كے مندرجہ ذیل کلمات ملتے ہیں، جن کا صراحت کے ساتھ ان کے معمولات میں شامل ہونے کا تو ذکر نہیں، البتہ ان کلمات كا وه اپنے متوسلين كو پڑھنے کا کہا کرتے تھے، اسی طرح ان کلمات کو اپنے شیخ،حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کے پسندیدہ درود میں شمار کرتے تھے، جو اس بات کا قوی قرینہ ہے کہ یہ کلمات حضرت مولانا حسین احمد مدنی کے معمولات میں شامل ہو۔
مکتوبات حضرت مدنی وسلاسل طیبہ میں ہے:
"اللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبَهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ بِعَدَدِ كُلِّ شَيْئٍ مَعْلُوْم لَّك."
(مكتوبات، حصہ اول، صفحه : 114، مجلس يادگار شيخ الاسلام ، كراچی، وسلاسل طيبه از مولانا حسين احمد مدني، صفحہ:28، كتب خانه اعزازيه ديوبند، ضلع سهارنپور)
"اللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبَهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ بِعَدَدِ كُلِّ مَعْلُوْم لَّك."
(مكتوبات، حصہ اول، صفحه : 139)
"اللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبَهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ كَمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى عَدَدَ مَا تُحِبُّ وَتَرْضَى."
(مكتوبات، حصہ دوم،صفحہ: 83)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

