بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فنگرفش کھانےکاحکم

سوال

کیافنگر فش کھانا مکروہ ہے؟

جواب

فنگرفش اگرمچھلی کابناہوتوکھاناحلال ہےاوراگرکسی اورسمندری جانور کابناہواہوتواس کاکھاناحلال نہیں ہے، اسی وجہ سے اسٹنگ رے (جو ”سمندری چمگادڑ“ کے نام سے بھی معروف ہے) کو  فِنگر فِش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ماہرین کے نزدیک یہ مچھلی ہی کی ایک قسم ہے، لہٰذا اس کا کھانا حلال ہے، جب کہ ”مگرا“سےبنی فنگرفش کھانامکروہ ہے، کیونکہ ماہرین کےنزدیک ”مگرا“سمندری درندہ ہےمچھلی نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما الذي يعيش في البحر فجميع ما في البحر من الحيوان محرم الأكل إلا السمك خاصة فإنه يحل أكله إلا ما طفا منه وهذا قول أصحابنا رضي الله عنهم."

(کتاب الذبائح و الصیود، ج: 5، ص: 35، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144705100598
تاریخ02-11-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں