بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذاتی کمائی میں سے والدین، بہنوں، پڑوسیوں اور غریبوں کا کیا حق ہے؟

سوال

میری عمر تقریباً ۲۱ سال ہے۔ مثال کے طور پر میری مہینے کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ہے، اب اُس ایک لاکھ میں میری امّی، ابو، میری بہنوں کا اور میرے دیگر رشتہ داروں، نیز پڑوسیوں اور غریبوں کا کتنا حق ہوتا ہے؟ اور کس کس کا کتنا حق ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی کمائی میں  اس کے امی، ابو، بہن اور دیگر رشتہ داروں، نیز پڑوسیوں اور غریبوں  کا کوئی متعین حصہ نہیں، البتہ صلہ رحمی کا تقاضہ یہ ہے کہ سائل اپنا مال اپنے اقارب پر خرچ کرے، اسی طرح پڑوسیوں اور غریبوں کی بھی اعانت کرے۔ تاہم اگر والدین غریب ہیں اور خود کفیل نہیں ہیں تو ایسی صورت میں والدین کا نان ونفقہ سائل کے ذمہ ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب، أو لم يقدرا."

(کتاب الطلاق،الباب السابع عشرفی النفقات،الفصل الخامس فی  نفقات  ذوی الارحام،ج:1،ص،565،ط:دارالفکر)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144705100577
تاریخ01-11-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں