بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، والدہ، تین بھائی اور تین بہنوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم

سوال

گزشتہ برس 12 ربیع الاول 1446ھ کو ہمارے بڑے بھائی کا انتقال ہو گیا۔ مرحوم کے سوگواروں میں بیوہ، والدہ، تین بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں، جبکہ مرحوم کی کوئی اولاد نہیں ہے۔

مرحوم کا بینک میں ایک اکاؤنٹ اور لاکر موجود ہے۔ اب بھائی کی وفات کے بعد یہ اکاؤنٹ اور لاکر کس کی ملکیت شمار ہوگا؟ کیا یہ مرحوم کی بیوہ کی ملکیت شمار ہوگا یا نہیں؟ اور اگر شریعت کے اعتبار سے بیوہ کا اس میں کوئی حصہ بنتا ہو تو براہِ کرم وضاحت فرما دیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ مذکورہ اکاؤنٹ اور لاکر اگر واقعتاً مرحوم کی ملکیت تھا، تو اب اس کی وفات کے بعد یہ اشیاء کسی کی ذاتی ملک میں نہیں آئیں گی،بلکہ مرحوم کے شرعی ورثاء کے درمیان میراث کے ضابطہ کار کے مطابق تقسیم ہوگا۔

لہٰذا مرحوم کا ترکہ اس کے شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمّہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 108 حصّوں میں تقسیم کرکے 27 حصّے مرحوم کی بیوہ کو، 18 حصّے والدہ کو، 14 حصّے ہر ایک بھائی کو، اور 7 حصّے ہر ایک بہن کو ملیں گے۔ صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:108/12

بیوہ والدہ بھائی بھائی بھائی بہن بہن بہن
3 2 7
27 18 14 14 14 7 7 7

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم کی بیوہ کو 25 فیصد، والدہ کو 16.66 فیصد، ہر ایک بھائی کو 12.96 فیصد، اور ہر ایک بہن کو 6.48 فیصد ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144705100527
تاریخ30-10-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں