بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نامرد کی بیوی کے مہر کا حکم

سوال

ہمارے رشتہ داروں میں ایک شادی ہوئی، تقریباً 4-5 سال میاں بیوی نے ایک ساتھ گزارے، تنہائی میں بھی رہے، اب اس کے بعد بیوی ازدواجی زندگی گزارنے سے مایوس ہو گئی اور واپس رہنے والدین کے گھر آ گئی اور کہا کہ میرا خاوند ازدواجی زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہے، نامرد ہے، ایک مرتبہ بھی تعلقات قائم نہیں کر سکا، لہذا مجھے اس سے خلاصی دلائی جائے، ایسی صورت میں کیا لڑکی مہر کی حق دار ہے؟ واضح رہے کہ شادی کے موقع پر مہر متعین تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب شادی کے بعد میاں بیوی تنہائی میں ساتھ رہے ہیں اور مہر بھی متعین تھا تو ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ مکمل مہر کی ادائیگی لازم ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (‌بلا ‌مانع حسي) ...  كالوطء) فيما يجيء (ولو) كان الزوج (مجبوبا أو عنينا أو خصيا) ... في (تأكد المهر) المسمى."

(كتاب النكاح ، باب المهر ، جلد : 3 ، صفحه : 114-118 ، طبع : سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144705100077
تاریخ25-10-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں