بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٖغیر مختون شخص کی امامت درست ہے

سوال

کیا غیر مختون شخص کا امامت کروانا درست ہے؟

جواب

ختنہ شعائر اسلام میں سے ہے اور سنت عمل ہے، البتہ غیر مختون شخص اگر ناپاکیوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہو تو اس کی امامت جائز ہے اور اس کے پیچھے نماز درست ہوگی، تاہم مختون شخص کا امام ہونا اولی ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

‌"الأصل ‌أن (‌الختان سنة) كما جاء في الخبر (وهو من شعائر الإسلام) وخصائصه (فلو اجتمع أهل بلدة على تركه حاربهم) الإمام فلا يترك إلا لعذر.

وفي كتاب الطهارة من السراج الوهاج اعلم أن الختان سنة عندنا للرجال والنساء، وقال الشافعي: واجب وقال بعضهم: سنة للرجال مستحب للنساء لقوله عليه الصلاة والسلام «ختان الرجال سنة وختان النساء مكرمة»."

(مسائل شتی، ج: 6، ص: 751، ط: سعید)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

ایک حافظ قرآن کی عمر تقریبا ۲۵ سال ہے ختنہ نہیں ہوئی ہے، لوگ امامت پر اعتراض کرتے ہیں، کیا ان کو ختنہ کرانا جائز ہےاور امامت درست ہے یا نہیں

جواب: اس کو ختنہ کرالینا ضروری ہے کہ شعائر اسلام میں سے ہے اور امامت اس کی درست ہے۔

(کتاب الصلاۃ،ج: 3، ص:138، ط:دار الاشاعت )

فتاریٰ محمودیہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے:

ختنہ سنت ہے، جو بلا عذر اس کو چھوڑ دے تارک سنت ہے،اگر باوجود قدرت و وسعت کے بدن غسل و استنجاء میں پاک نہیں رکھتا ہےتو اس کو ہرگز امام نہ بنایا جائے، اگر پاک رکھتا ہے تو امامت اس کی درست ہے، اس کے پیچھے نما ہوجائے گی، اگرچہ اس تارک سنت کے مقابلہ میں عامل سنت کی امامت مقدم ہے۔فقط واللہ سبحانہ تعالی اعلم۔

(باب الامامۃ،ج:6،ص:278، ط:جامعہ فاروقیہ)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144705100052
تاریخ23-10-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں