”جو کھانا آہستہ اور آرام سے کھایا جائے اس کا حساب نہیں ہوگا۔“ تخریج اور حکم
سوال
کل ایک دوست نے بتایا کہ ان کے امام صاحب نے جمعہ کے بیان میں فرمایا ہے کہ: ”جو کھانا آہستہ اور آرام سے کھایا جائے اس کا حساب نہیں ہوگا۔“ اور انہوں نے کہا کہ یہ حدیث ہے، کیا یہ واقعی حدیث ہے؟
جواب
سائل کے ذکر کردہ الفاظ پر مشتمل روایت، ہمیں کافی تلاش کے باوجود احادیث کی کسی معتبر کتاب میں نہیں ملی، لہٰذا جب تک کسی معتبر سند کے ساتھ یہ روایت مل نہ جائے، اسے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144704101718
تاریخ17-10-2025

