بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے جسم کے بال لگوانا

سوال

کیا انسان خود کے بال لگوا سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  اپنے ہی جسم  سے ایک جگہ کے بال نکال کر دوسری جگہ ان بالوں کی سرجری کے ذریعہ  پیوند کاری کی جائے جیسے عام طور پر جسم کے کسی حصے سے بال نکال کر سر پر لگائے جاتے ہیں  اور وہ اس طور پر کہ بال اصل بالوں کی طرح جسم کا حصہ بن جائیں،تو ایسا کرنا جائز ہے۔

الدر المختار میں ہے:

"ووصل الشعر بشعر الآدمي حرام سواء كان شعرها أو شعر غيرها".

وفي الرد:

"(قوله سواء كان شعرها أو شعر غيرها) لما فيه من التزوير كما يظهر مما يأتي وفي شعر غيرها انتفاع بجزء الآدمي أيضا".

(‌‌‌‌كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، 6/ 372، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144704101680
تاریخ16-10-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں