بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگرمیں مطلقہ لڑکی سےتین ماہ کےاندرنکاح نہ کروں تومیری بیوی کوطلاق ہےکہنےکاحکم

سوال

ایک شخص پر کسی دوسرے شخص نے الزام لگایا کہ اس کے فلاں طلاق یافتہ لڑکی کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ بات درست نہیں تھی ، یہ الزام سن کر پہلے شخص نے جو کہ پہلے سے شادی شدہ ہے، قسم کھائی کہ میں اب اگر اسی طلاق یافتہ لڑکی سے تین ماہ کے اندر شادی نہ کروں تو میری بیوی کو طلاق۔

اب سوال یہ ہے کہ تین ماہ کے اندر اس شخص نے اگر اسی مطلقہ لڑکی سے شادی نہ کی تو کیا پہلی بیوی کو طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ شخص نےتین ماہ کےاندرمذکورہ مطلقہ لڑکی سےشادی نہ کی توپہلی بیوی کوطلاق ہوجائےگی۔اوراگرکرلی توطلاق نہیں ہوگی۔

الموسوعہ الفقهیہ الکویتیہ میں ہے:

" فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق ... وإذا لم يحصل لم يقع."

(حرف الطاء، الطلاق، الطلاق المعلق علی شرط، ج: 29، ط: 38، ط: دارالسلاسل - الكويت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144704101570
تاریخ15-10-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں