
(۱): وضو میں پیشانی دھونے سے قیامت کے دن چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکے گا، اور دونوں ہاتھ دھونے سے نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا، اسی طرح سر کا مسح کرنے سے عرش کا سایہ نصیب ہوگا، اور اسی طرح دونوں پاؤں دھونے سے پل صراط کا راستہ آسان ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فضائل کسی حدیث سے ثابت ہیں ؟اور ان کو بیان کرنا درست ہے؟
(۲): اور اگر یہ ثابت نہ ہوں تو کیا بیان کرنے والے کو نرمی سے سمجھانا چاہیے یا نہیں؟
(۱): سوال میں وضو کے جو فضائل ذکر کرکے ان کی تخریج و تحقیق سے متعلق دریافت کیا گیا ہے، وہ فضائل ہمیں احادیثِ مبارکہ میں تلاش کرنے کے باوجود اس تفصیل کے ساتھ نہیں مل سکے۔ لہٰذا جب تک کسی معتبر اور صحیح سند سے ان کا ثبوت نہ مل جائے، انہیں نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ البتہ صحیح احادیث سے اس قدر ثابت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کو قیامت کے دن اس حالت میں بلایا جائے گا کہ ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں وضو کے اثر سے روشن ہوں گے، لہٰذا تم میں سے جو کوئی اپنی چمک بڑھاسکتا ہے وہ ایسا ضرور کرے"۔
(۲) اور جہاں تک سمجھانے کا تعلق ہے تو اگر کوئی شخص یہ فضائل لاعلمی کی بنا پر بیان کرتا ہے تو اسے سختی کے بجائے نرمی اور حکمت کے ساتھ یہ بات سمجھانا چاہیے کہ نبی ﷺ کی طرف کسی بات کو منسوب کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے، اس لیے اس میں احتیاط ضروری ہے، اور حدیث بیان کرنے سے پہلے معتمد اہلِ علم اور مستند کتب سے رہنمائی لینا بھی ضروری ہے۔ اور اگر وہ جان بوجھ کر یا تنبیہ کے باوجود ایسی بات بیان کرے تو اسے سختی سے روکنا چاہیے، کیونکہ اگر نبی کریم ﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کی جائے جو حقیقتاً حدیث نہ ہو تو اس کو آگے پھیلانے والے کے لیے احادیث میں سخت وعید آئی ہے۔حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔"
صحیح البخاری میں ہے:
عن سعيد بن أبي هلال، عن نعيم المجمر، قال: رقيت مع أبي هريرة على ظهر المسجد، فتوضأ، فقال: إني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن أمتي يدعون يوم القيامة غرا محجلين من آثار الوضوء، فمن استطاع منكم أن يطيل غرته فليفعل».
(صحيح البخاري،كتاب الوضوء، باب فضل الوضوء، والغر المحجلون من آثار الوضوء، (1/39) رقم (136)، ط: دار طوق النجاة)
سنن الترمذی میں ہے:
عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار».
(سنن الترمذي، باب ما جاء في تعظيم الكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، (5/35) رقم (2659).
فتح المغيث بشرح ألفية الحديث ميں هے:
وبالجملة فسبيل من أراد الاحتجاج بحديث من السنن، لا سيما ابن ماجه ومصنف ابن أبي شيبة، وعبد الرزاق مما الأمر فيها أشد، أو بحديث من المسانيد واحد ; إذ جميع ذلك لم يشترط من جمعه الصحة ولا الحسن خاصة.
وهذا المحتج إن كان متأهلا لمعرفة الصحيح من غيره، فليس له أن يحتج بحديث من السنن من غير أن ينظر في اتصال إسناده، وحال رواته.
كما أنه ليس له أن يحتج بحديث من المسانيد، حتى يحيط علما بذلك، وإن كان غير متأهل لدرك ذلك، فسبيله أن ينظر في الحديث، فإن وجد أحدا من الأئمة صححه أو حسنه، فله أن يقلده، وإن لم يجد ذلك، فلا يقدم على الاحتجاج به، فيكون كحاطب ليل، فلعله يحتج بالباطل، وهو لا يشعر.
(فتح المغيث،الكلام على المسانيد،(1/118)، مكتبة السنة مصر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100433
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن