بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیاجمعہ کی نماز میں قنوت نازلہ احناف کے نزدیک جائزہے؟

سوال

میں کینیڈا میں رہتا ہوں اور امام صاحب جمعہ کی نماز کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہیں، کیا یہ احناف کے نزدیک جائز ہے؟

جواب

احناف کے یہاں کسی حادثے کے وقت صرف صبح کی نماز میں دوسری رکعت کے رکوع سے اٹھ کر امام کے لیے قنوتِ نازلہ پڑھنے کی اجازت ہے دوسری کسی جہری، سری یا جمعہ وغیرہ کی نماز میں قنوتِ نازلہ احناف کے نزدیک  جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما ‌القنوت ‌في الصلوات كلها للنوازل فلم يقل به إلا الشافعي، وكأنهم حملوا ما روي عنه عليه الصلاة والسلام «أنه قنت في الظهر والعشاء» كما في مسلم، وأنه «قنت في المغرب» أيضا كما في البخاري على النسخ لعدم ورود المواظبة والتكرار الواردين في الفجر عنه عليه الصلاة والسلام اهـ وهو صريح في أن قنوت النازلة عندنا مختص بصلاة الفجر دون غيرها من الصلوات الجهرية أو السرية."

‌‌کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،ج:2،ص:11،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144703102001
تاریخ20-09-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں