بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کو ریٹائرمنٹ پر کمپنی کی طرف سے ملنے والے فنڈ کا حکم

سوال

میرے والد صاحب ایک مزدور کی حیثیت سے بحری جہازوں میں لوڈنگ کا کام کرتے تھے۔ والد صاحب نے وہ کام چھوڑ دیا تھا۔ ان کے چھوڑنے کے بعد میں نے ایک عرصے تک وہاں مزدوری کی۔ اسی دوران جس کے پاس میں کام کرتا تھا، انہوں نے میرے اکاؤنٹ میں کچھ فنڈ بھیجا۔ یہ فنڈ اس وجہ سے بھیجا گیا کہ میں وہاں سے ریٹائرڈ ہوا تھا، اور اسی طرح کمپنی والے ہر ریٹائرڈ ہونے والے مزدور کو فنڈ جاری کرتے ہیں۔

اب میرے بھائیوں کا دعویٰ ہے کہ: "آپ تو والد صاحب کے جانے کے بعد یہاں کام کررہے تھے، لہٰذا اس فنڈ میں ہمارا بھی حصہ ہے۔" حالانکہ یہ کوئی سرکاری نوکری نہیں تھی کہ مجھے والد صاحب کی پنشن  ملتی ۔

اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ فنڈ جو بحیثیت مزدور  ریٹائرمنٹ کے بعد میرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوا، کیا اس میں بھائیوں کا بھی کوئی حق ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب سائل مذکورہ جگہ پر والد کے کام چھوڑنے کے بعد مزدوری کرتا تھا، اور کمپنی انتظامیہ نے سائل کی ریٹائرمنٹ پر سائل کے لیے  فنڈ جاری کیا ہے تو اس فنڈ کا مالک سائل ہی ہے ،یہ والد مرحوم کا ترکہ شمار نہیں ہوگا۔  سائل کے بھائیوں کا یہ کہنا کہ : "آپ تو والد صاحب کے جانے کے بعد یہاں کام کررہے تھے، لہٰذا اس فنڈ میں ہمارا بھی حصہ ہے "درست نہیں ہے ۔

لہذا سائل کے بھائی ،سائل کو ملنے والے فنڈ میں سے مطالبے کا حق نہیں رکھتے ۔ 

 الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے :

‌‌  "الإرث لغةً: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. و فقهاً: ما خلفه الميت من الأموال و الحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي."

(الفصل الاول، تعریف علم المیراث، ج: 10، ص: 7697، ط: دار الفکر)

تبیین الحقائق میں ہے :

"والمراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه."

(کتاب الفرائض،ج:6، ص:229، ط دارالکتب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144703101959
تاریخ20-09-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں