بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نیمل نام رکھنے کا حکم

سوال

نیمل نام کیسا ہے؟ نیز یہ نام اسلامی لحاظ سے رکھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق بچوں کے نام اچھے معنی والے، معروف اور پسندیدہ ہونے چاہییں۔ ایسے نام اختیار کرنا بہتر ہے جو صحابہ، صحابیات یا امت کی نیک خواتین کے نام ہوں، یا جن کے معنی میں کوئی قباحت نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں، "نیمل" نام اردو، عربی یا فارسی لغات میں تلاش کے باوجود ملا نہیں، اور عربی میں اس سے ملتا جلتا لفظ "نمل" (چیونٹی) ہے جس کے معنی اور استعمالات مناسب نہیں۔ اس بنا پر "نیمل" نام رکھنا پسندیدہ اور مناسب نہیں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ بچی کا نام کسی صحابیہ رضی اللہ عنہا یا نیک خاتون کے نام پر رکھا جائے۔

القاموس الوحید میں ہے:

"نمِل المکانُ نمَلا: کسی جگہ کا بہت چیونٹیوں والی ہونا، یدُ فلان: ہاتھ سن ہو کر ڈھیلا ہوجانا۔"

(مادہ: نمل، 1711، ط: ادارۂ اسلامیات، لاہور)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144703100561
تاریخ31-08-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں