بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رشوت دے کر غیرقانونی تعمیر (پینٹ ہاؤس) کرنے کا شرعی حکم

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ تعمیرات کا نقشہ گرونڈ پلس دو منزل کا ہے اگر ہم کسی سرکاری افسر کو پیسے دے کر چھت پر یعنی دومنزل کے بعد مزید پینٹ ھاؤس بنوالے تو یہ جائز ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر قانونا  دو منزل کے بعد مزید   منزل بنانے کی اجازت  نہیں ہے تو کسی سرکاری افسر کو رشوت کی مد میں پیسے دے کر چھت پر پینٹ ہاؤس بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔

سنن أبي داود میں ہے: 

"حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا ابن أبي ذئب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سلمةعن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌الراشي والمرتشي."

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔

(أول کتاب  الأقضیة،باب في كراهية الرشوة،ج:5،ص:433،ط:دار الرسالة العالمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144703100281
تاریخ27-08-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں