بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ دیتے وقت اس چیز کو سر پر گھمانے کی شریعت میں کوئی اصل نہیں

سوال

صدقہ کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ چونکہ سر پر سے اتارنا اہلِ یہود کا طریقہ ہے۔

جواب

واضح رہے کہ صدقہ کرنے لیے صدقہ کی نیت کرنا شرعا ضروری ہوتا ہے،صدقہ کے لیے شریعت نے کوئی خاص صورت مقرر نہیں کی، جس صورت میں فقراء کا زیادہ فائدہ ہو،  اسے اختیار کرلیا جائے۔ اور یہ ضرورت مندوں کے احوال کے اعتبار سے اسی طرح اوقات کے اعتبار سے بھی مختلف ہوسکتاہے۔جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ عمرو بن جموح  رضی اللہ عنہ  ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ ہم کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

"{يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ} ."

ترجمہ:"تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کریں ف ٤ کہہ دو کہ جو کچھ تم خرچ کرو مال سو ماں باپ کے لئے اور قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور محتاجوں کے اور مسافروں کے اور جو کچھ کرو گے تم بھلائی سو وہ بیشک اللہ کو خوب معلوم ہے۔"

(ازتفسیرعثمانی)

 باقی جہاں تک صدقہ کی رقم کو سر پر گھمانے کا سوال ہے تو شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں،اس لیے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

درر الحكام میں ہے:

"(المادة 835) - (الصدقة هي المال الذي وهب لأجل الثواب) . الصدقة هي المال الذي يوهب لأجل الثواب ولوجه الله تعالى. هي تعطى للفقير ويفهم من هذا التعريف أن الصدقة أخص مطلقا من الهبة وحيث إن الصدقة هي للثواب فالهبة للغني ولو حصلت بلفظ الصدقة فهي هبة كما أن الصدقة لو أعطيت للفقير بلفظ الهبة فهي صدقة (الخانية والقهستاني والأنقروي)."

(الكتاب السابع الهبة، ج: 2، ص: 394، ط: دار الجیل)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144702101423
تاریخ15-08-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں