بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی بھانجی سے نکاح کا حکم

سوال

ایک عورت (فاطمہ) نے اپنے شوہر کی بہن (عائشہ) کو دودھ پلایا، تو مذکورہ صورت میں عائشہ فاطمہ کی رضاعی بیٹی کہلائے گی، فاطمہ کا بیٹا جو اسی شوہر سے ہے، اس کا نکاح عائشہ کی بیٹی کے ساتھ جائز ہے یا ناجائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب فاطمہ نے عائشہ کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلایا، تو عائشہ  فاطمہ کی رضاعی بیٹی بن گئی اور فاطمہ کا بیٹا عائشہ کا رضاعی بھائی بن گیا اور عائشہ کی بیٹی اس لڑکے کی رضاعی بھانجی ہوگئی، لہٰذا فاطمہ کے بیٹے کا عائشہ کی بیٹی (رضاعی بھانجی) کے ساتھ نکاح شرعاً جائز نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌يحرم ‌على ‌الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا."

(كتاب لرضاع، ج:1، ص:343، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144702100982
تاریخ10-08-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں