بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی سے زبر دستی خون لینے کا شرعی حکم

سوال

کیا مجبوری یا شدید ضرورت کے وقت زبردستی کسی زندہ انسان سے خون لینا جائز ہے؟ مثلاً اگر کوئی خون نہ دے رہا ہو اور مریض کی جان خطرے میں ہو!

جواب

واضح رہے کہ کسی مریض کو خون دینے سے اس کی جان بچنے کی امید تو ہوتی ہے، لیکن یہ یقینی امر نہیں ہے کہ خون لگنے سے ضرور زندگی باقی رہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص خوشی اور رضا مندی سے خون دینا چاہے تو یہ جائز ہے، لیکن کسی سے زبردستی خون لینا شرعاً درست نہیں۔ کیونکہ زبردستی خون لینے میں متعدد مفاسد اور خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:

"وفي شرح المنظومة الإرضاع بعد مدته حرام؛ ‌لأنه ‌جزء ‌الآدمي ‌والانتفاع ‌به ‌غير ‌ضرورة ‌حرام على الصحيح وأجاز البعض التداوي به؛ لأنه عند الضرورة لم يبق حراما."

(كتاب الرضاع،ج:1،/ص: 376،ط:دار إحياء التراث العربي، بيروت)
فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144702100834
تاریخ07-08-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں