بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر مؤکد ہونے کے بعد شوہر کے ذمہ مہر ادا کرنا واجب ہے

سوال

ایک شخص نے نکاح کیا ہے، نکاح کے بعد ڈھائی سال بیوی اپنے خاوند کے پاس رہی، اور ان سے ایک بچہ بھی ہے، جس کی عمر تقریباً ایک سال ہے۔اب خاوند نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، لیکن خاوند نے ابھی تک اپنی بیوی جن کو طلاق دی ہے، بیوی کی عدت پوری ہونے کے بعد بھی حق مہر ادا نہیں کیا اور نہ ہی بچے کا نان ونفقہ ادا کیا ہے، اور جس وقت شوہر نے اپنےبیوی کو طلاق دی تو اس وقت شوہر نے یہ اقرار کیا میں پندرہ یوم کے اندر آپ کا حق مہر ادا کروں گا، اب عدت گزرنے کے بعد شوہر یہ کہہ رہے ہیں رضامندی سے طلاق ہوئی ہے، جبکہ بیوی اپنا  حق مانگ رہی جو کہ شوہر دینے کو تیار نہیں ہے، جب کہ بیوی نے مہر کے عوض بذات خود خلع نہیں مانگا، تو اس مہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟  

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذكوره شخص کی بیوی نے مہر کے عوض طلاق یا خلع کا مطالبہ نہیں کیا تھاتو مہر مذکورہ شخص (شوہر) کے ذمے سے ساقط نہیں ہوا، بلکہ اس کے ذمہ قرض ہے،مکمل مہر بیوی  کو ادا کرنا واجب ہے، ورنہ آخرت میں دینا ہوگا اور آخرت میں دینا بہت مشکل ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق."

(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج:1، ص:304، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144701102121
تاریخ26-07-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں