بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عورتوں کے کپڑوں میں بناوٹ اور زینت حاصل کرنے کی اشیاء کا بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

سوال

کیا  عورتوں کے کپڑوں میں بناوٹ اور زینت حاصل کرنے کی اشیاء کا بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی چیز ایسی ہو کہ اس کا استعمال جائز اور نا جائزدونوں طرح ہو سکتا ہو تو ایسی چیز کی خرید و فروخت شرعا جا ئز ہے اورنا جائزاستعمال کا گنا ہ استعمال کرنے والے کو ہو گا،لہذا صورتِ مسئولہ میں عورتوں کے کپڑوں میں بناوٹ اور زینت حاصل کرنے کی اشیاء کا بیچنا جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي كذا في الكافي."

(كتاب البيوع، الباب الأول، ج: 3، ص: 2، ط: دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وأفاد ‌كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها نهر.

(قوله: نهر) عبارته: وعرف بهذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب الذي يتخذ منه العازف، وما في بيوع الخانية من أنه يكره بيع الأمرد من فاسق يعلم أنه يعصي به مشكل."

(‌‌كتاب الجهاد، ‌‌باب البغاة، ج: 4، ص: 268، ط: سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144701102099
تاریخ24-07-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں