بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر میں پانی کھینچنے کی مشین لگانا

سوال

ہمارے ایک پڑوسی ہیں، انہوں نے گھر میں پانی کھینچنے کی موٹر لگائی ہوئی ہے اور ڈیڑھ سال ہو گیا اس بات کو، پہلے وہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ میرے گھر میں مشین ہے، پھر سوا سال بعد انہوں نے خود اقرار کر لیا کہ میں نے مشین تو لگائی ہوئی ہے لیکن میری ٹنکی زمین پر رکھی ہوئی ہے تو اس سے پانی اوپر چڑھانے کے لیے میں نے مشین لگائی ہوئی ہے، لیکن جب پانی چلتا ہے ان کا پائپ وائبریٹ کرتا ہے، جس سے صاف واضح ہے کہ اجتماعی پانی کو کھینچنے کے لیے مشین لگائی ہوئی ہے، ہم نے  پلمبر کو بھی چیک کروایا ہے اس نے بھی اس بات کی گواہی دی ہے کہ اس لائن میں مشین لگی ہوئی ہے، اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جیسے گیس کی لائن پر شریعت کا حکم ہے کہ مشین کے ذریعے گیس کھینچنا ناجائز ہے،  اور قانوناً بھی وہ جرم ہے، تو اس حوالے سے پانی کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ پوری بلڈنگ کی حق تلفی کر رہے ہیں؟

مشین کے اوپر وہ عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ اس کے بغیر ہمارے ہاں پانی نہیں آ رہا۔ 

جواب

دوسروں کے حصے کا پانی   کھینچنے کے لیے گھر میں  مشین لگانا شرعاً جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اس سے دوسرے لوگوں کو تکلیف اور ضرر لاحق ہوتا ہےاور جو چیز عام لوگوں کی تکلیف کا ذریعہ بنے اس کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہوتا ہے۔

جو لوگ مذکورہ مشین استعمال کر رہے ہیں شرعا وہ گناہ گار ہیں۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن أبي صرمة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «من ضار أضر الله به، ومن شاق شق الله عليه»."

(2/ 785،  کتاب الاحکام، باب من بنى في حقه ما يضر بجاره، ط: دار إحياء الكتب العربية)

ترجمہ:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو کسی کو نقصان پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ اسے نقصان دے گا،  اور جو کسی کے لیے سختی پیدا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے گا۔‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144701101345
تاریخ15-07-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں