بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رنگ ساز کمپنی کی طرف سے رنگ کے ڈبہ میں موجود ٹوکن کا حکم

سوال

رنگ کی کمپنیاں بالٹی کے اندر جو ٹوکن ڈالتے ہیں  اور کہتے ہیں یہ ہم  اپنے جیب سے کاریگر کے لیے ڈالتے ہیں  تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ   ٹوکن کا حق دار اصل خریدار ہے  ،لہذااگر رنگ ساز اپنے پیسوں سے رنگ خرید کر رنگ کرتا ہو اور رنگ کروانے والے سے رنگ اور اپنی محنت کا ایک مجموعی معاوضہ لیتا ہو (جیساکہ ٹھیکہ کے معاملات میں ہوتا ہے) تو اس صورت میں   رنگ ساز ہی ٹوکن کا حق دار ہوگا؛ کیوں کہ خریدار بھی وہی ہے،لیکن اگر رنگ ساز صرف رنگ سازی کا کام کرے، اور رنگ، رنگ کروانے والا خود خریدے یا رنگ ساز کو پیسے دے اور رنگ ساز اس کے وکیل کی حیثیت سے خریدے تو ان دونوں صورتوں میں ٹوکن کا حق دار اصل خریدار ( مالک )ہوگا۔

البحرا لرائق میں ہے :

"‌من ‌ملك ‌شيئا ‌ملك ‌ما ‌هو ‌من ‌ضروراته ‌وتوابعه."

(كتاب المكاتب،باب ما يجوز للمكاتب أن يفعله وما لا يجوز،ج:8،ص:51،دارالكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144701101131
تاریخ12-07-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں