بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

احرام کی چادریں بدلے بغیر دوسرا عمرہ ادا کرنا

سوال

کیا  عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام سے نکلنے کی نیت سےحلق کر کے  ، احرام کی چادریں  کھولے بنا دوبارہ میقات جا کر نئے عمرے کی نیت کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ احرام  نیت اور تلبیہ کا نام ہے، چادروں کا نہیں، ایک عمرہ مکمل کرنے کے بعد دوسرا عمرہ ادا کرنے کے لیے نئے احرام کی چادریں پہننا ضروری نہیں، بلکہ اصل اعتبار نیت اور تلبیہ کا ہے۔ جب تک پہلا عمرہ مکمل نہ ہو (یعنی طواف، سعی اور حلق یا قصر نہ کر لیا جائے)، دوسرا عمرہ شروع کرنا جائز نہیں۔ عمرہ مکمل کرنے کے بعد اگر وہی احرام کی چادریں اتارے بغیر یا دوبارہ  دھوکر یا بغیر دھوئےپہن کر میقات پر جا کر نئے عمرہ کی نیت  تلبیہ پڑھ کر کرے تو دوسرا عمرہ ادا کرنا جائز ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں اگر آپ نے ایک عمرہ مکمل کر لیا اور احرام کی چادریں اتارے بغیر دوبارہ میقات جا کر نئے عمرہ کی نیت اور تلبیہ پڑھ لیا تو دوسرا عمرہ شرعاً جائز ہے۔ 

ارشاد الساری میں ہے: 

"ان النیة والتلبیة نفس الاحرام وحقیقته"

(باب الإحرام،ص: 125 ،ط : امداديه)

بدائع  الصنائع ميں ہے:

"وأما بيان ما يصير به محرما فنقول، وبالله التوفيق: ‌لا ‌خلاف ‌في ‌أنه ‌إذا نوى، وقرن النية بقول وفعل هو من خصائص الإحرام أو دلائله أنه يصير محرما."

(کتاب الحج، فصل بيان ما يصير به محرما، ج: 2 ، ص:161، ط : العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144701101003
تاریخ10-07-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں