بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ عورت کا سرخ جوڑا پہننے کا حکم

سوال

کیا بیوہ عورت عدت کے بعد سرخ جوڑا پہن سکتی ہے اگرچہ اس نے یہ ارادہ بھی کیا ہو کہ اب دوبارہ میں کبھی شادی نہیں کروں گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیوہ عورت عدت کے بعد سرخ رنگ کا جوڑا پہن سکتی ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے، اگرچہ وہ دوبارہ شادی کا ارادہ نہیں رکھتی، البتہ عدت کے اندر سرخ جوڑا پہننا کہ جس سے زیب وزینت مقصود ہو جائز نہیں ہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"والمتوفى عنها زوجها إذا كانت بالغة مسلمة الحداد في عدتها كذا في الكافي. والحداد الاجتناب عن الطيب والدهن والكحل والحناء والخضاب ولبس المطيب والمعصفر والثوب الأحمر وما صبغ بزعفران إلا إن كان غسيلا لا ينفض ولبس القصب والخز والحرير ولبس الحلي والتزين والامتشاط كذا في التتارخانية."

(كتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، 1/ 533، ط: دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وكره لبس المعصفر والمزعفر الأحمر والأصفر للرجال) مفاده أنه لا يكره للنساء."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في اللبس، 6/ 358، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144701100722
تاریخ07-07-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں