بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی میراث کی تقسیم کا زندگی میں سوال

سوال

میرے پاس پچانوے لاکھ روپے ہیں، میری ایک بیوی، دو بیٹے،اور دو بیٹیاں ہیں، میرے والدین کا انتقال ہو چکا ہے،تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد میرے بیوی بچوں کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟ 

جواب

واضح رہے کہ کسی کی موت کے وقت جو لوگ زندہ ہوں شرعاً وہی اس کے وارث کہلاتےہیں اور کس کی موت پہلے آئے گی، کس کی بعد میں؟  یہ صرف اللہ ہی کے علم میں ہے؛  لہذا کسی کی زندگی میں حتمی طور پر اس کی موت کے وقت موجود ورثاء اور ان میں تقسیمِ میراث کا نہیں بتایا جاسکتا۔

تکملۃ رد المحتار میں ہے :

"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة، أو تقديرا كالحمل والعلم بجهل إرثه."

(کتاب الفرائض، ج : 7، ص : 349، ط : دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144701100451
تاریخ02-07-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں