بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کینٹین والوں کا صدقہ کی برف کو بیچنا

سوال

ہمارے بنوں تبلیغی مرکز میں بعض احباب برف بھیج دیتے ہیں تاکہ عام لوگوں کو اس سے نفع حاصل ہو ،چنانچہ کنٹین والے حضرات ان میں سے کچھ حصے کو لے کر شربت بنانے میں استعمال کرتے ہیں ،البتہ فی گلاس شربت عام ریٹ سے تقریبا دس روپے سستا بیچتے ہیں ،تو کیا مذکورہ برف کو اس طریقے پر استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں شرعی حکم بتا دیجئے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کینٹین والوں کے لیے برف کا استعمال درست نہیں ہے،اس لیے اولاً تو اس کی افادیتِ عامہ خاص ہو گئی ،یعنی جو لوگ خریدیں گے صرف وہی اس برف سے فائدہ اٹھا سکیں گے ،ثانیا برف  شربت کے ساتھ مخلوط ہو گئی ہے ،لہذا  برف کا مبیع (فروخت شدہ مال)بننا لازم آرہا ہے،پس اس سے اجتناب کیا جائے، بلکہ مذکورہ کینٹین والوں پر لازم ہے کہ وہ برف مفت بھیجنے والوں کی نیت اور منشاء کے مطابق اس برف کو استعمال کریں۔ 

"فتاوی شامی میں ہے:

"شرط الواقف كنص الشارع، أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."

(کتاب الوقف، ج: 4، ص:433، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144701100317
تاریخ01-07-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں