بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نو دس محرم کو حلیم پکانے کا حکم

سوال

کیا نو، دس محرم کو حلیم پکانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

نو، دس محرم کو حلیم بنانا چوں کہ اہلِ  باطل کا شعار ہے،  اس لیے  ان دنوں میں حلیم بنانے سے مکمل اجتناب کیا جائے،نیز غیر اللہ کے نام پر حلیم بنانا مطلقاً (سال کے کسی دن) ناجائز ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحۡمُ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦ         

(سورة المائدة: 3)

ترجمہ: تم پر حرام کیے گئے مردار اور  خنزیر کا گوشت اور جو جانور کہ غیر اللہ کے لیے نامزد کردیا گیا ہو (بیان القرآن)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من تشبه بقوم فهو منهم. رواه أحمد وأبو داود."

(كتاب اللباس، الفصل الثاني، ج:2، ص:1246، ط::المكتب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144701100283
تاریخ30-06-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں