سونا قرض لینے کی صورت میں ادائیگی کے وقت کس قیمت کا اعتبار ہے؟
سوال
ہمارے والد نے آج سے دس سال پہلے کسی سے سونا قرضے میں لیا، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ہم ان کو سونا واپس ادا کریں یا پیسے ادا کریں؟ اگر پيسے ادا کریں تو آج کی قیمت کے حساب سے ادا کرنے ہیں یا آج سے دس سال قبل کی قیمت کے حساب سے؟
جواب
صورت مسئولہ میں سائل كے والد نے آج سے دس سال قبل جو سونا قرض لیا تھا تو اب اس کی ادائیگی کے وقت اتنی ہی مقدار سونا یا اس کی موجودہ قیمت دینا لازم ہوگی، دس سال پہلے کی قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها...قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها... الخ."
(کتاب الرهن، 6/ 525، ط: سعید)
العقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟
(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى."
(باب القرض، 279/1، ط:دار المعرفة)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

