بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے چچا کا بلاوجہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا

سوال

ایک شادی شدہ شخص اپنی بیوی کے ساتھ خوش ہے، جب کہ اس کی بیوی کا چچا یہ کہہ رہا ہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دو، کیا اس طرح کا مطالبہ کرنا شرعا جائز ہے؟ جب کہ اس شخص کی بیوی حاملہ بھی ہے۔

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ شخص کی بیوی کے چچا کا اس سےکسی شرعی وجہ کے بغیر یہ مطالبہ کرنا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے ، شرعادرست نہیں،اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کے چچا کے مطالبہ پر عمل کرے،تاہم اگر وہ حمل کی حالت میں طلاق دے گا تو طلاق واقع ہوجائے گی۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌أبغض ‌الحلال إلى الله الطلاق."

( کتاب الطلاق، باب فی طلاق السنة، ج:3، ص:505، ط:دار الرسالة العالمیة)

فتاوی شامی میں ہے :

"  وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، 

(کتاب الطلاق، ج:3، ص:228، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144612101407
تاریخ25-06-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں