بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عشاء کی نماز کا وقت کب تک ہے

سوال

عشاء کی نماز کا وقت کب تک ہوتا ہے؟

جواب

عشاء کا آخری وقت طلوعِ فجر تک باقی رہتا ہے، اگر کسی عذر کی وجہ سے عشاء کی نماز میں تاخیر ہوگئی اور طلوعِ فجر سے پہلے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لی تو وہ نماز ادا شمار ہوگی، قضا شمار نہیں ہوگی، البتہ شدید عذر کے بغیر آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے، اس لیے آدھی رات سے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لینی چاہیے؛ تاکہ کراہت نہ ہو، اور صبح صادق تک بھی عشاء کی نماز ادا نہیں کی تو قضا شمار ہوگی۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ووقت العشاء والوتر من غروب الشفق إلى الصبح. كذا في الكافي."

(كتاب الصلاة، الباب الأول في مواقيت الصلاة، الفصل الأول، ج:1، ص:51، ط:دار الفکر)

مجمع الأنهرمیں ہے:

"(ووقت العشاء والوتر من انتهاء وقت المغرب) على اختلاف القولين (إلى الفجر الثاني) أي الصادق."

(كتاب الصلاة، وقت العشاء والوتر، ج:1، ص:70، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144612100599
تاریخ03-06-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں