بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاہافا نام رکھنا

سوال

 کاہافا نام رکھنا کیسا ہے؟ اور اس کا معنیٰ بتا دیجیے۔

جواب

مذکورہ لفظ کا کوئی معنیٰ نہیں ملا ،  بظاہر یہ  مہمل لفظ ہے، نیز بچوں کے نام رکھنے میں اصل یہ ہے کہ ایسے نام رکھے جائیں جو اللہ اور اس کے رسول کے پسندیدہ ناموں میں سے ہوں، یا انبیاء کرام، صحابہ کرام اور صحابیات کے ناموں میں سے ہوں یا وہ ایسے بامعنی نام ہوں جو عموماً مسلمانوں میں رکھے جاتے ہوں، اور مذکورہ نام میں یہ صفات نہیں پائی جاتیں، لہذا یہ نام رکھنا درست نہیں۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبد الرحمن لكن التسمية بغير هذه الأسماء في هذا الزمان أولى لأن العوام يصغرون هذه الأسماء للنداء والتسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة لأنه من الأسماء المشتركة ويراد في حق العباد غير ما يراد في حق الله تعالى كذا في السراجية.

وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط."

(کتاب الکراهية، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة، ج:5، ص:362، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144612100568
تاریخ03-06-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں