بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جو جانور جفتی پر قادر نہ اس کی قربانی کا حکم

سوال

ایسے بیل کی قربانی کا کیا حکم ہے جو پیدائشی جفتی پر قادر نہ ہو ؟ یعنی یہ جانور کے لیے عیب کہلائے گا یا نہیں ؟

جواب

جفتی پر قادر  نہ ہونا قربانی کے جانور میں عیب نہیں، لہذا  جو جانور پیدائشی طور جفتی پر قادر نہ ہو، یا اسے خصی کردیا گیا ہو، تو اس جانور کی قربانی کرنا جائز ہوگا ۔

فتاوی عالمگیری میں ہے :

ْ"ويجوز المجبوب العاج عن الجماع."

(كتاب الأضحية،  ‌‌الباب الأول في تفسير الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:297، ط:دار الفكر )

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144612100550
تاریخ03-06-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں