بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچی کا نام عقرب رکھنے کا حکم

سوال

بچی کا نام عقرب رکھ سکتے ہیں ؟

جواب

عقرب یہ ایک صحابیہ کا نام ہے ، لہذا یہ نام رکھنا درست اور باعثِ برکت ہے۔

الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے:

"عقرب بنت معاذ بن النعمان بن امرئ القيس بن زيد بن عبد الأشهل. 

ذكرها ابن حبيب في المبايعات، وقال: كانت زوج قيس بن الخطيم، وهي والدة يزيد بن قيس وأخيه ثابت بن قيس. وقال ابن سعد: هي شقيقة سعد بن معاذ، أسلمت وبايعت، وكانت تزوجت يزيد بن كرز بن زعوراء بن عبد الأشهل، فولدت له رافعا وحواء، ثم خلف عليها قيس بن الخطيم فولدت له ثابتا ويزيد، وبه كان يكنى، واستشهد يوم الجسر". 

(عقرب ، ج:8، ص:241، ط:دار الکتب العلمیہ)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144612100548
تاریخ03-06-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں