بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی سے پہلے جانور کے مرنے کی صورت میں کم قیمت جانور لینے کا حکم

سوال

قربانی کا جانور ایک لاکھ روپے میں خریدا، لیکن وہ مر گیا۔ اب کیا میں ایک لاکھ سے کم قیمت کا جانور لے سکتا ہوں؟

جواب

اگر صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کے لیے جانور خریدا تھا اور وہ جانور قربانی سے قبل ہی مر گیا، تو ایسی صورت میں اس پر دوسرا جانور قربان کرنا واجب ہے ،چاہے دوسرے جانور کی قیمت پہلے سے کم ہو یا زیادہ۔

اور جو شخص صاحبِ نصاب نہ ہو، اُس پر دوسرا جانور قربان کرنا لازم نہیں، تاہم اگر وہ قربانی کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔

البنايۃ شرح الهدايۃ میں ہے:

"(قالوا: إذا ماتت المشتراة للتضحية على الموسر مكانها أخرى) ش: أي قال المشائخ  رحمهم الله: إذا ماتت الشاة المشتراة؛ لأن التضحية على الغني مكان هذه شاة أخرى. (ولا شيء على الفقير) ش: يعني إذا ماتت المشتراة؛ لأنها كانت متعينة وماتت كما ذكرنا."

(كتاب الأضحية، أوجب على نفسه أضحية بغير عينها فاشترى صحيحة ثم تعيبت، ج :12، ص :43، ط : دار الكتب العلمية)

تبيين الحقائق میں ہے: 

"وعلى هذا الأصل إذا ‌ماتت المشتراة للتضحية على الموسر مكانها أخرى، ولا شيء على الفقير."

(كتاب الأضحية، ج :6، ص :7، ط : دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144612100506
تاریخ03-06-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں