بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاکی و ناپاکی کے وسوسوں (OCD) کا شرعی حکم اور علاج

سوال

 او سی ڈی بیماری کا علاج کیاہے؟ کوئی بھی چیز کو چھونے سے پاکی ناپاکی کی وہم اور ہر چیز ناپاکی کے وساوس کا خیال  آتاہے

جواب

واضح رہے کہ جب تک کسی چیز کے ناپاک ہونے یا اس پر ناپاکی لگنے کا یقین نہ ہو، اُس وقت تک وہ چیز شرعاً پاک ہی سمجھی جائے گی۔محض شک، گمان یا احتمال کی بنیاد پر کسی چیز کو ناپاک قرار نہیں دیا جا سکتا،لہٰذا اگر کسی چیز کی پاکی یا ناپاکی کے بارے میں وسوسے یا وہم پیدا ہوں، تو جب تک اس پرناپاکی لگنے کا یقین نہ ہوتوان کی طرف دھیان نہ دیں ۔

نیز پنج وقتہ نمازوں کےاہتمام کریں ، اوروہم کے موقع پر ان دعاؤں کا اہتمام کریں:

1:"أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ."

2:" اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِكَ مِنْ  هَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَأَعُوْذُبِكَ رَبِّ مِنْ أَنْ یَّحْضُرُوْنَ."

3:  اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ وَسَاوِسَ قَلْبِيْ خَشْیَتَكَ وَ ذِکْرَكَ وَاجْعَلْ هِمَّتِيْ وَ هَوَايَ فِیْمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی."  

الاشباہ والنظائر میں ہے:

‌‌"القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك ....... شك في وجود النجس فالأصل بقاء الطهارة."

(الفن الأول:القواعد الكلية، ص:49،47، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن."

(كتاب الطھارة، قبيل فرض الغسل، ج:1، ص:151، ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144612100252
تاریخ31-05-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں