بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زندہ جانور تول کر بیچنے کا حکم

سوال

کیا زندہ جانور تول کر بیچنا جائز ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں جانور کو وزن کے ساتھ بیچنا شرعاً جائز ہے ،بشرطیکہ  خریدوفروخت  جانبین کی رضامندی سے ہو ۔

فتح القدیر میں ہے :

"قال (وكل شيء نص رسول الله - صلى الله عليه وسلم - على تحريم التفاضل فيه كيلا فهو مكيل ۔۔۔۔۔۔۔(وما لم ينص عليه فهو محمول على عادات الناس) لأنها دلالة

(وما لم ينص عليه رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فهو محمول على عادات الناس) في الأسواق (لأنها) أي العادة (دلالة) على الجواز فيما وقعت عليه لقوله - صلى الله عليه وسلم - «ما رآه المسلمون حسنا» الحديث."

(باب الربا،ج:7،ص:15،مصطفي البابي الحلبي)

 قربانی کے احکام  و مسائل از مفتی  اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ  میں ہے :

" مسئلہ نمبر۱۴:۔۔۔ موجودہ دور میں جانوروں کو تول کر (وزن کرکے) خریدوفروخت کرنا بھی جائز ہے، ایسی قربانی بلاشبہ درست ہے۔" 

( ص:21، ناشر: جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن  کراچی)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144612100180
تاریخ31-05-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں