بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وقت مقررہ پر کام پورا نہ کرنے پر ٹھیکیدار پر جرمانہ لگانا یا طے کردہ رقم سے کٹوتی کرنا

سوال

اگر ٹھیکیدار وقت مقررہ پر کام پورا نہ کرے اور کام میں تاخیر کرے تو اس پر جرمانہ لگانا یا اس کی مقررہ رقم سے کٹوتی کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

اگر ٹھیکیدار وقت مقررہ پر کام پورا نہ کرے اور کام میں تاخیر کرے تو اس پر جرمانہ لگانا یا اس کی مقررہ رقم سے کٹوتی کرناجائز نہیں ہے۔

 البحر الرائق میں ہے:

"وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(كتاب الحدود، باب حد القذف، فصل في التعزير، ج: 5، ص: 44، ط: دار الکتاب الإ سلامي) 

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(كتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 4، ص: 61،62، ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144612100075
تاریخ29-05-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں