بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں حجامہ لگانا

سوال

مسجد میں حجامت (خون نکالنا) کرنا کیسا ہے؟ اور اگر مسجد میں بڑا پلاسٹک بچھایا جائے اور اس پر چادر بچھائی جائے اس پر بیٹھ کر حجامت کی جائی کیسا ہے اور کیا یہ مسجد کے آداب کے خلاف ہے یا نہیں؟

جواب

 مسجد میں حجامہ لگانا درست نہیں۔ اس لیے کہ اس میں قصداً خون نکالا جاتا ہے، اور جسم سے بہنے والا خون چونکہ نجس ہےاورمسجد میں قصداً نجاست لے کر آنا جائز نہیں۔چاہے کوئی چٹائی وغیرہ بچھائی جائے یا نہیں۔

موسوعۃ فقہیۃ کویتیۃ میں ہے:

"ويجب أن ينزه المسجد عن الحجامة فيه ."

(الموسوعة الفقهية الكويتية، احتجام، الحكم الإجمالي، ج2، ص69، ط: دارالسلاسل - الكويت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فلو طاف وعلى ثوبه نجاسة أكثر من الدرهم لا يلزمه شيء بل يكره لإدخال النجاسة ‌المسجد. اهـ."

( رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الحج، 2/ 469، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144612100012
تاریخ29-05-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں