بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان کی زمین کو بازار کے راستے کے طور پر استعمال کرنا

سوال

ایک محدود زمین جو تقریبا 40 -41 سال پہلے قبرستان کے لیے وقف کر دی گئی ہے، لیکن اب بات یہ ہے کہ گاؤں کے چند لوگوں نے اسی وقف شدہ زمین کے آخری کونے سے ایک گلی نکالی ہے؛ تاکہ لوگ آنے جانے کے لیے اس کو استعمال کریں، تو کیا وقف شدہ زمین میں سے کسی کے لیے راستہ نکال لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسے لوگوں کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ عام راستہ موجود ہے اور یہ راستہ لوگ اپنی گزرگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، یعنی: بازار وغیرہ جانے کے لیے، یہ راستہ قبرستان جانے والوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہا بلکہ وہ دوسرا عام راستہ ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں قبرستان کی زمین کو بلا ضرورت  عام راستہ بنا دینا درست نہیں ہے، وقف شدہ جگہ کو اس کو اپنے مصرف میں ہی استعمال کرنا ضروری ہے  ۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وسئل هو أيضاً عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره، هل يجوز زرعها واستغلالها؟ قال: لا، ولها حكم المقبرة".

(كتاب الوقف، الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض،2 / 470، ط: دار الفكر)

فتاوی محمودیہ میں ہے :

"اگر قبرستان وقف ہو تو وہاں کو راستہ، سڑک بنانا درست نہیں۔"

(کتاب الوقف، جلد : 15 ، صفحہ : 395 ، ط : دار لافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

کفایت المفتی میں ہے :

"کوئی جدید راستہ قبرستان کی زمین میں سے دینا درست نہیں۔"

(کتاب الوقف ، جلد : 7 ، صفحہ : 110 ، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144611102665
تاریخ27-05-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں