بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ میں نفلی طواف کرنا

سوال

کیا ہم عمرہ کے دوران ایک سے زیادہ طواف کر سکتے ہیں؟

جواب

عمرہ کا واجب طواف ادا کرنے کے بعد بہتر یہ ہے کہ  مزید کوئی نفلی طواف کیے بغیرترتیب کے مطابق سعی کی جائے، اس لیے کہ سعی میں بلا عذر تاخیر مکروہ ہے۔

البتہ عمرہ کے افعال (طواف و سعی)   مکمل ہونے کے بعد حلق کرنے سے پہلے نفلی طواف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

البحر العمیق میں ہے:

 "سنن السعي........ومنها : الموالاة بينه وبين الطواف، كما قال ابن العجمي وعز الدين بن جماعة: حتى لو تخلل بين الطواف والسعي فصل كثير لا يضره، ويكره لما فيه من ترك السنّة."

(البحر العميق في مناسك المعتمر و الحاج الي البيت العتيق،الباب العاشر : في دخول مكة وفي الطواف والسعي، فصل : الكلام في السعي، ص: 1294، ط: مؤسسة الريان)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144611102554
تاریخ26-05-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں