بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام اگر سنتِ مؤکدہ نہ پڑھتا ہو تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟

سوال

امام سنت موکدہ نہ پڑھے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرکوئی شخص سنت مؤکدہ کبھی کبھارترک کرتاہو،یاکسی عذرکی وجہ سے ترک کرتاہوتواس کےپیچھےنمازپڑھنےمیں کوئی حرج نہیں ہے،البتہ اگرکوئی شخص  مستقل سنت مؤکدہ ترک کرتاہوتویہ شخص فاسق ہوگااورفاسق کی اقتدامیں نماز اداکرنامکروہ تحریمی ہے،اوراگرکوئی متقی امام قریبی مساجد میں نہ  ہوتوپھر اس کے پیچھےنمازپڑھنااکیلانمازپڑھنےسےبہترہےتاکہ جماعت ترک نہ ہو۔

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

" وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا ينبغي لصديق أن يكون لعانا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يرمي رجل رجلا بالفسوق ولا يرميه بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كذلك."

(کتاب الآداب، باب حفظ اللسان، ص:411، ج:2، ط:قدیمی)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله وسن مؤكدا) أي استنانا مؤكدا؛ بمعنى أنه طلب طلبا مؤكدا زيادة على بقية النوافل، ولهذا كانت السنة المؤكدة قريبة من الواجب في لحوق الإثم كما في البحر، ويستوجب تاركها التضليل واللوم كما في التحرير: أي على سبيل الإصرار بلا عذر كما في شرحه وقدمنا بقية الكلام على ذلك في سنن الوضوء."

(باب الوتروالنفل، مطلب في السنن والنوافل، ج:2، ص:12، ط:دار الفکر)

الدر المختار مع ردالمحتارمیں ہے:

"صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة". (قوله: نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لاينال كما ينال خلف تقي ورع."

(کتاب الإمامة، ج:1، ص:562، ط: سعيد)

کفایت المفتی میں ہے:

"سنن مؤکدہ کاتارک  علی الدوام گناہ گاراورتارک علی الاستخفاف کافرہےاوراگرترک احیاناً(کبھی کبھار)یاضرورتاًہویاکسی عذرسےہوجائےتوجائزہے۔"

(کتاب الصلوت، ج:3، ص:319، ط:دارالاشاعت)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144611101709
تاریخ18-05-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں