بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا اپنا گھر نہیں ہوتا کیا یہ مقولہ شریعت کے مطابق ہے؟

سوال

ہمارے معاشرے میں مشہور ہے کہ عورت کا اپنا گھر نہیں ہوتا یعنی نہ باپ کاگھر اس کا اپنا گھر ہوتا ہے اور نہ شوہر کا۔ اس بارے میں شریعت مطہرہ کیا کہتی ہے؟

جواب

"عورت کا اپنا گھر نہیں ہوتا" یہ ایک بے تکی  سوچ ہے۔ شریعت نے عورت کو ہر حال میں باوقار، محفوظ اور باعزت رہائش کا حق دیا ہے۔ خواہ وہ باپ کا گھرہو، شوہر کاہو یا اس کی ذاتی ملکیت ،سب شرعی طور پر اس کے لیے "اپنا" گھر ہو تے  ہیں۔جب تک عورت کی شادی نہ ہو باپ کا گھر اس کے لیے رہائش کی جگہ ہوتی ہے  اور وہ وہاں کسی مہمان یا عارضی مکین کی حیثیت سے نہیں بلکہ شرعی حق دار کی حیثیت سے رہتی ہے ۔نکاح کے بعد شریعت نے عورت کے لیے مسکن یعنی رہائش کی فراہمی کو شوہر کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا ہے ۔ نیز شریعتِ مطہرہ میں عورت کو شوہر کے گھر میں الگ رہائش کا حق حاصل ہے چاہے وہ گھر کرائے کا ہو یا شوہر کا ذاتی۔اسی طرح اگر عورت کو والد، ماں، شوہر یا کسی اور ذریعے سے جائیداد یا مکان ملے تو وہ اس کی مکمل مالک ہوتی ہے وہ اس پر قبضہ رکھ سکتی ہے کرایہ پر دے سکتی ہے یا بیچ سکتی ہے کوئی اسے اس حق سے محروم نہیں کر سکتا۔

لہٰذا مذکورہ مقولہ شرعی اصولوں کے مطابق درست نہیں ۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے؛

"ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة."

(کتاب الطلاق، الباب السابع عشرفي النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد،  ج:1، ص:563، ط:دار الفکر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله وكذا تجب لها) أي للزوجة السكنى أي الإسكان، وتقدم أن اسم النفقة يعمها؛ لكنه أفردها؛ لأن لها حكما يخصها نهر (قوله خال عن أهله إلخ) ؛ لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه،لأنها لا تأمن على متاعها ويمنعهاذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار ذلك؛ لأنها رضيت بانتقاص حقها هداية."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، مطلب في مسكن الزوجة، ج: 3، ص: 599،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144611101066
تاریخ11-05-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں