بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دودھ میں پانی ملاکر فروخت کرنا

سوال

زید کی دودھ کی دکان ہے، وہ اگر دودھ میں پانی نہ ملائے تو اس سے اس کی دکان کے اخراجات اور کرایہ بھی نہیں بن پاتے، کیا وہ دودھ میں اتنا پانی ملاسکتا ہے جس سے اس کی دکان کے اخراجات اور کرایہ بن پائے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر زید  دودھ میں پانی ملا کر اس کو خالص دودھ کہہ کر فروخت کرے  یا لوگوں میں یہ معروف ہو کہ یہ خالص دودھ ہےاوروہ  اس میں پانی ملاکر   لوگوں کو بتائے بغیر فروخت کرے تو  یہ دھوکا دینا ہے، جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے، البتہ اَگر گاہک کو پہلے ہی  بتادے یا لکھ کر لگادے  کہ اس میں پانی ملا ہوا ہے اور اُس کی اتنی قیمت ہے اور گاہک اس کو بخوشی خریدلے تو یہ جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے :

"‌لا ‌يحل ‌كتمان ‌العيب ‌في ‌مبيع ‌أو ‌ثمن؛ لأن الغش حرام ... قوله؛ لأن الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته".

(کتاب البیوع ، باب خیار العیب،5 / 47، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144611100537
تاریخ05-05-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں