بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کے لیےفرض نمازوں کے مستحب اوقات

سوال

خواتین نماز اول وقت میں  یا مستحب اوقات میں پڑھیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عورتوں کے ليے گھر میں فرض نماز کا مستحب و افضل وقت فجر کی نماز کےلیے تغلیس یعنی اندھیرے میں نماز پڑھنا افضل ہے،اور باقی نمازوں میں مردوں کے جماعت سے فارغ ہونے  کا انتظار کریں، جب مرد جماعت کی نماز سے فارغ ہوجائیں تو پھر عورتوں کےلیے نماز پڑھنا افضل ہے۔

باقی اول وقت میں بھی پڑھ سکتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"فالتغليس أفضل كمرأة مطلقا. وفي غير الفجر الأفضل ‌لها ‌انتظار ‌فراغ الجماعة."

(کتاب الصلوٰۃ،ج:1،ص:366،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(والمستحب) للرجل (الإبتداء) في الفجر (بإسفار والختم به) هو المختار .....(إلا لحاج بمزدلفة) فالتغليس أفضل لمرأة مطلقًا، وفي غير الفجر الأفضل لها انتظار فراغ الجماعة."

(  كتاب الصلوٰة، مطلب: في طلوع الشمس من مغربها،ج:1،ص:366،  ط: دارالفکر بیروت)

بحرالرائق میں ہے:

"الأفضل ‌للمرأة في الفجر الغلس وفي غيرها الإنتظار إلى فراغ الرجال عن الجماعة."

 (کتاب الصلوٰۃ،وقت صلوٰۃ العشاء، ج:1،ص: 260،ط:دار الكتاب الإسلامي)

مجمع الانہر میں ہے:

"وفي المبتغي ‌الأفضل ‌للمرأة في الفجر الغلس، وفي غيره الانتظار إلى فراغ الرجال عن الجماعة."

 (کتاب الصلوٰہ،وقت العشاء والوتر،ج:1،ص: 71،ط:دار إحياء التراث العربي، بيروت)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144611100320
تاریخ01-05-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں