بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیدائشی بال کٹوانے میں تاخیرکرنا

سوال

 اگر پیدائشی بال تین یا چار مہینے بعد کٹوا دیےجائیں  تو پھر اس کاکیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگربچے کے پیدائشی بال تین یا چار مہینے بعد کٹوائے جائیں تو یہ جائز ہے، اور اس میں کوئی گناہ  نہیں۔ البتہ سنت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کے ساتھ بچے کے بال بھی کٹوا دیے جائیں،اگر ساتویں دن نہیں ہو سکا تو چودہویں دن یا اکیسویں دن عقیقہ اور بال کٹوادیے جائیں ،تاہم اگر جسمانی اعتبار سےکوئی عذر ہوتواس کےبعد بھی بال کٹوائےجاسکتےہیں ۔

فیض الباری میں ہے:

"ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلتُ: بل يجوز إلى أن يموت، لما رأيت في بعض الروايات أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلّم عقّ عن نفسه بنفسه". 

(كتاب العقيقة،باب العتيرة،ج:2،ص 88،ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے: 

"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضةً أو ذهباً ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعاً على ما في شرح الطحاوي".

(‌‌كتاب الحظر والإباحة،ج :6،ص :336،ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144611100242
تاریخ30-04-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں