بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شاہ رام نام رکھنا

سوال

کیا شاہ رام نام رکھنا درست ہے ۔ کوئی قباحت تو نہیں ؟ یا ہندوازم سے منسلك تو نہیں ہے ؟

جواب

شاہرام کا معنی ”رام کا بادشاہ“  یا ”رام بادشاہ“ ہے،رام  ہندوؤں کے یہاں پروردگار ،معظم، برگزیدہ  شخصیت کو  کہتے ہیں، اس لحاظ سے  شاہ رام نام رکھنا  درست نہیں ہے۔

نیز واضح رہے کہ والدین کے ذمہ اولاد کےحقوق میں سب سے پہلا حق  اچھا نام رکھنا ہے، اور ناموں میں سب سے افضل نام وہ ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تھے،لہذا کوشش ہونی چاہیئے کہ صحابہ، صحابیات یا امت کی برگزیدہ شخصیات   میں سے کسی نام کا انتخاب کرکے اس کے موافق نام  رکھے جائیں، اس سلسلہ میں ہماری ویب سائٹ پر موجود ”اسلامی نام“ کے سیکشن سے بھی راہ نمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔  

اسلامی نام

حدیث شریف میں ہے:

"إنكم ‌تدعون ‌يوم ‌القيامة ‌بأسمائكم ‌وأسماء ‌آبائكم، ‌فأحسنوا ‌أسماءكم."

” بے شک تم لوگ قیامت کے دن اپنے اور اپنے آباء و اجداد کے ناموں سے پکارے جاؤگے، لہٰذا تم اچھے نام رکھو۔“ 

(سنن أبي داود، كتاب الأدب، ‌‌باب في تغيير الأسماء، ج:4، ص:287، ط:المكتبة العصرية)

فیروز اللغات جامع  میں ہے:

رام :پرمیشور،پروردگار۔"

(ص:699،ط:فیروز سنز)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144611100158
تاریخ30-04-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں