بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماہی نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا لڑکی کا نام ماہی رکھ سکتے ہیں؟

جواب

’’ماہی‘‘  کا معنی ہے: ’’مچھلی‘‘ اور اگر ماہی کا لفظ ’’ماہ‘‘  سے ہو، تو ’’ماہ‘‘  فارسی میں چاند کو  کہتے ہیں، ’’ی‘‘ نسبت کے لیے ہوگی۔   یہ نام  رکھنا گو جائز ہے،  البتہ  بہتر یہ ہے کہ  بچی کا نام رکھنا ہو تو صحابیات رضی اللہ عنہن  کے ناموں میں سے کوئی  نام رکھا جائے۔(نور اللغات /  جامع اللغات ، بحوالہ اردو لغت، تاریخی اصول پر)

شعب الایمان للبیہقی میں ہے:

"عن ابن عباس أنهم قالوا: يا رسول الله قد علمنا ما حق الوالد على الولد فما ‌حق ‌الولد ‌على ‌الوالد؟ قال: أن يحسن اسمه ويحسن أدبه."

ترجمہ:’’ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں(یعنی صحابہ کرام) نے کہا: "اے اللہ کے رسول! ہمیں والد کا حق اولاد پر معلوم ہے، تو اولاد کا والد پر کیا حق ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: کہ وہ (باپ) اس کا اچھا نام رکھے، اور اسے اچھا ادب سکھائے۔‘‘

(باب في حقوق الأولاد والأهلين،ج6،ص480،ط: دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144611100023
تاریخ29-04-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں