بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کپڑے کی ناپاکی میں شک ہو تو اس کی پاکی حکم

سوال

 منی نکلنے کے بعد طہارت کر رہا تھا اور کپڑے سے عضو خشک کر لیا، پھر پاؤں وغیرہ دھونے لگ گیا اور پھر جب دیکھا تو ہلکا سا قطرہ نکلا ہو اتھا اور عضو کے ساتھ ہی لگا ہوا تھا اور مجھے یہ نہیں پتا کہ وہ قطرہ عضو کو کپڑے سے خشک کرتے ہوئے نکلا تھا یا نہیں؟ یعنی میں یہ نہیں جانتا کہ وہ قطرہ کپڑے پر لگا کہ نہیں ؟ تو کپڑے کی  پاکی کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

مذکورہ صورت میں کپڑے کی ناپاکی کا یقین نہیں ہے، بلکہ شک ہے  اور فقط شک کی بنیاد پر کپڑا ناپاک  نہیں ہوتا،البتہ اگر ناپاکی کا اثر نظر آۓ یا کسی اور طریقے سے ناپاکی کایقین ہوجاۓ تو   کپڑا ناپاک  شمار ہوگا۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

‌‌"القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك ....... شك في وجود النجس فالأصل بقاء الطهارة."

(الفن الأول:القواعد الكلية، ص:49،47، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن."

(كتاب الطھارة، قبيل فرض الغسل، ج:1، ص:151، ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144610100784
تاریخ12-04-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں