بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی سے17سال کی عمرمیں شادی کرنےکی شرعی حیثیت

سوال

میری شادی اپنی بیوی سے کورٹ میں ہوئی تھی، جبکہ اس کے والدین اس پر راضی نہیں تھے۔ لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس کی عمر 15 سال ہے، جبکہ لڑکی خود کہتی ہے کہ اس کی عمر 18 سال ہے۔ عدالت کے حکم پر عمر کے تعین کے لیے لڑکی   کامیڈیکل  چیک اپ کروایا گیا، جس میں اس کی عمر 17 سال بتائی گئی ہے۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا 17 سال کی عمر میں میری بیوی کے ساتھ نکاح شریعت (قرآن و سنت) کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

 

جواب

واضح رہےکہ لڑکااورلڑکی دونوں15سال کی عمرمیں بالغ ہوجاتےہیں،اورپندرہ سال کی عمرمیں ان کانکاح درست ہوتاہے،لہذاصورتِ مسئولہ میں  اگرواقعۃً لڑکی کی عمر17سال ہےتولڑکےکااس سےاس عمرمیں نکاح درست ہے ۔

الدرالمختارمیں ہے:

"(بلوغ الغلام بالاحتلام والاحبال والانزال)والاصل هو الانزال (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ولم يذكر الانزال صريحا لانه قلما يعلم منها (فإن لم يوجد فيهما) شئ (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة، به يفتى) لقصر أعمار أهل زماننا."

(‌‌كتاب الحجر،فصل،606،ط:دارالکتب العلميةبيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144610100492
تاریخ09-04-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں