بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ میں اپنے حق سے دستبردار ہونا

سوال

میں نے ایک بار جذبات میں آ کر والد سے کہا: "مجھے آپ کی جائیداد میں سے کوئی حصہ نہیں چاہیے"،  کیا اس کہنے سے میرا حق والد کی جائیداد میں ختم ہو جائے گا یا برقرار رہے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا والد کے ترکہ میں حق برقرار ہے، اور وہ اپنے شرعی حصے کے بقدر والد کے ترکہ کا حق دار ہوگا، البتہ والد کی زندگی میں سائل کو والد کی جائیداد میں کوئی حق حاصل نہیں۔

الأشباه والنظائر میں ہے:

"لو قال الوارث: ‌تركت ‌حقي ‌لم ‌يبطل ‌حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك."

(‌‌ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود، ص:272، ط: دار الكتب العلمية)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:

"‌الإرث ‌جبري لا يسقط بالإسقاط."

(كتاب الدعوى، ج:2، ص:26، ط: دار المعرفة)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144610100302
تاریخ07-04-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں